اتوار 7 جون 2026 - 20:25
ظہورِ امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اور حکومتِ مہدوی میں خواتین کا مقام و کردار (آخری حصہ)

حوزہ/ تاریخ ایسی خواتین کے تذکروں سے بھری ہوئی ہے جنہوں نے ایمان اور معرفتِ الٰہی کی روشنی میں اپنی زندگی سنواری۔ یہی وہ خواتین ہیں جو اپنی بلند روحانی منزلت کی وجہ سے رجعت کرنے والوں اور آخری وصیِ الٰہی کے مددگاروں میں شمار ہوں گی۔

حوزہ نیوز ایجنسی | گزشتہ دو حصوں میں ہم نے خواتین کی عمومی ذمہ داریوں اور اس اہم فریضے پر گفتگو کی تھی جو ظہورِ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی راہ ہموار کرنے سے متعلق ہے۔ اس حصے میں ہم دو اہم سوالات کا جائزہ لیں گے جو ظہور اور حکومتِ امام مہدی علیہ السلام میں خواتین کے کردار سے متعلق ہیں۔

کیا امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے 313 خاص اصحاب میں خواتین بھی ہوں گی؟

حضرت جابرؓ امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں: «وَ اَللَّهِ ثَلاَثُمِائَةٍ وَ بِضْعَةَ عَشَرَ رَجُلاً فِیهِمْ خَمْسُونَ اِمْرَأَةً یَجْتَمِعُونَ بِمَکَّةَ عَلَی غَیْرِ مِیعَادٍ.» (تفسیر عیّاشی، ج 1، ص 65)

"خدا کی قسم! تین سو سے کچھ زیادہ افراد جمع ہوں گے اور ان میں پچاس خواتین بھی ہوں گی۔ یہ سب بغیر کسی پیشگی وعدے کے مکہ میں جمع ہوں گے۔"

اس روایت میں موجود لفظ «فِیهِمْ» کے بارے میں دو احتمال بیان کیے گئے ہیں:

ایک یہ کہ 313 افراد میں 50 خواتین شامل ہوں گی۔

دوسرا یہ کہ 313 مردوں کے ساتھ 50 خواتین الگ سے موجود ہوں گی۔

البتہ اس روایت کے بارے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ تفسیر عیاشی میں نقل ہوئی ہے اور اس کی سند مکمل طور پر ذکر نہیں ہوئی۔ حدیث کی اصطلاح میں ایسی روایت کو "مرسل" کہا جاتا ہے۔

دوسری طرف یہی روایت غیبت نعمانی اور الاختصاص میں بھی نقل ہوئی ہے، لیکن وہاں «فِیهِمْ خَمْسُونَ اِمْرَأَةً» کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔

اسی طرح بعض دوسری روایات میں امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے 313 اصحاب کو جنگِ بدر کے مجاہدین اور حضرت طالوت علیہ السلام کے ساتھیوں سے تشبیہ دی گئی ہے، اور یہ سب مرد تھے۔

اسی وجہ سے علمِ حدیث کے اعتبار سے یہ بات یقینی طور پر ثابت کرنا آسان نہیں کہ 313 خاص اصحاب میں خواتین شامل ہوں گی یا نہیں۔ کیونکہ اس بارے میں جو روایت موجود ہے وہ مرسل ہے، جبکہ دوسری معتبر روایات میں 313 افراد کو مرد قرار دیا گیا ہے۔

البتہ اگر خواتین ان 313 افراد میں شامل نہ بھی ہوں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان کا مقام کم ہے۔ امام مہدی علیہ السلام کے مددگار صرف 313 افراد تک محدود نہیں ہوں گے، بلکہ بعد میں بڑی تعداد میں لوگ آپؑ کے ساتھ شامل ہوں گے۔ ان میں خواتین بھی اہم کردار ادا کریں گی اور حکومتِ مہدوی میں ان کی نمایاں ذمہ داریاں ہوں گی۔

کیا رجعت کرنے والوں میں خواتین بھی شامل ہوں گی؟

اس بحث میں ہمارا مقصد رجعت کرنے والی خواتین کی تعداد یا ان کے رجعت کے وقت کی تفصیل بیان کرنا نہیں، بلکہ یہ ثابت کرنا ہے کہ بعض خواتین بھی رجعت کا شرف حاصل کریں گی۔

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: یُکَرُّ مَعَ اَلْقَائِمِ (عَلَیْهِ‌اَلسَّلاَمُ) ثَلاَثَ عَشْرَةَ اِمْرَأَةً. قُلْتُ: وَ مَا یَصْنَعُ بِهِنَّ؟ قَالَ: یُدَاوِینَ اَلْجَرْحَی، وَ یَقُمْنَ عَلَی اَلْمَرْضَی، کَمَا کَانَ مَعَ رَسُولِ اَللَّهِ (صَلَّی اَللَّهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ). قُلْتُ: فَسَمِّهِنَّ لِی. فَقَالَ: اَلْقِنْوَاءُ بِنْتُ رُشَیْدٍ، وَ أُمُّ أَیْمَنَ، وَ حَبَابَةُ اَلْوَالِبِیَّةُ، وَ سُمَیَّةُ أُمُّ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ، وَ زُبَیْدَةُ، وَ أُمُّ خَالِدٍ اَلْأَحْمَسِیَّةُ، وَ أُمُّ سَعِیدٍ اَلْحَنَفِیَّةُ، وَ صُبَانَةُ اَلْمَاشِطَةُ، وَ أُمُّ خَالِدٍ اَلْجُهَنِیَّةُ. (دلائل الإمامة، ج 1، ص 484)

"قائم علیہ السلام کے ساتھ تیرہ خواتین رجعت کریں گی۔"

راوی نے پوچھا کہ ان کی ذمہ داری کیا ہوگی؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: «یُدَاوِینَ اَلْجَرْحَی، وَ یَقُمْنَ عَلَی اَلْمَرْضَی، کَمَا کَانَ مَعَ رَسُولِ اَللَّهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم»

"وہ زخمیوں کا علاج کریں گی اور مریضوں کی دیکھ بھال کریں گی، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں بعض خواتین یہ خدمات انجام دیتی تھیں۔"

اس روایت میں چند خواتین کے نام بھی ذکر ہوئے ہیں، جن میں قنواء بنت رشید، ام ایمن، حبابہ والبیہ، سمیہ والدۂ عمار بن یاسر، زبیدہ، ام خالد احمسیہ، ام سعید حنفیہ، صبانہ اور ام خالد جہنیہ شامل ہیں۔

رجعت کرنے والی خواتین کی نمایاں خصوصیات

ان خواتین کی زندگیوں پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی سب سے بڑی خصوصیت حق پر ثابت قدمی اور باطل کے سامنے ڈٹ جانا تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرعون کی بیٹی کی آرائش کرنے والی خاتون، یعنی صبانہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ توحید پر اس قدر ثابت قدم تھیں کہ فرعون کی دھمکیوں اور ظلم کے باوجود اپنے عقیدے سے پیچھے نہیں ہٹیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے بچوں سمیت جان قربان کر دی لیکن حق کا راستہ نہ چھوڑا۔مکمل واقعہ کچھ اس طرح ہے:

صبانہ فرعون کی بیٹی کے بال سنوارنے والی خاتون تھیں۔ ایک دن وہ فرعون کی بیٹی کے بال کنگھی کر رہی تھیں کہ اچانک کنگھی ان کے ہاتھ سے گر گئی۔ اس موقع پر ان کی زبان سے "بسم اللہ" جاری ہوگیا۔

فرعون کی بیٹی نے پوچھا: کیا تم میرے والد (فرعون) کا نام لے رہی ہو؟

صبانہ نے جواب دیا: نہیں، میرا اور تمہارا اور تمہارے والد کا رب اللہ ہے۔

فرعون کی بیٹی نے یہ بات اپنے باپ کو بتا دی۔ فرعون نے صبانہ کو دربار میں بلا کر پوچھا: کیا تم میرے علاوہ کسی اور کو رب مانتی ہو؟

انہوں نے پوری استقامت کے ساتھ جواب دیا: میرا اور تمہارا رب اللہ ہے۔

اس پر فرعون نے انہیں اپنے عقیدے سے دستبردار ہونے کا حکم دیا، لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ پھر فرعون نے ایک تانبے کا بڑا تنور گرم کروایا اور صبانہ اور ان کے بچوں کو اس میں ڈالنے کا حکم دیا۔

روایت کے مطابق ان کے بچوں کو ایک ایک کرکے تنور میں ڈالا گیا۔ جب سب سے چھوٹے شیر خوار بچے کی باری آئی تو ماں کے دل میں فطری اضطراب پیدا ہوا۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے اس شیر خوار بچے کو قوتِ گویائی عطا کی اور اس نے کہا:

"یا أُمّاهُ اصبري فإنّكِ على الحقّ"

"اے ماں! صبر کرو، تم حق پر ہو۔"

اس کے بعد صبانہ بھی اپنے بچے کے ساتھ تنور میں ڈال دی گئیں اور یوں راہِ خدا میں شہادت پائی۔(بحارالانوار، ج 13، ص 163)

اسی طرح حضرت سمیہؓ، والدۂ عمار بن یاسرؓ، اسلام کے ابتدائی دور کی ان عظیم خواتین میں سے تھیں جنہیں دینِ خدا کی وجہ سے سخت اذیتیں دی گئیں، لیکن وہ اپنے ایمان پر قائم رہیں اور آخرکار شہید کر دی گئیں۔

«وَ کَانَتْ مِمَّنْ تُعَذَّبُ فِی اَللَّهِ لِتَرْجِعَ عَنْ دِینِهَا فَلَمْ تَفْعَلْ فَمَرَّ بِهَا أَبُو جَهْلٍ فَطَعَنَهَا فِی قَلْبِهَا فَمَاتَتْ.» (بحارالانوار، ج 18، ص 241)

ایک اہم سبق

بعض لوگ اپنے دینی کمزور ہونے کی وجہ ماحول اور حالات کو قرار دیتے ہیں، لیکن اسلام کی عظیم خواتین کی زندگی اس سوچ کی تردید کرتی ہے۔

قرآنِ کریم حضرت آسیہ سلام اللہ علیہا کا ذکر کرتے ہوئے انہیں «امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ» یعنی فرعون کی بیوی کہتا ہے۔ اس میں ایک بڑا پیغام ہے کہ اگر کوئی خاتون فرعون جیسے ظالم کے محل میں رہ کر بھی ایمان کی بلند ترین منزل تک پہنچ سکتی ہے تو حالات اور ماحول انسان کی ترقی میں حتمی رکاوٹ نہیں بن سکتے۔

آخری بات

رجعت صرف ماضی کے بعض مؤمنین کے لیے نہیں، بلکہ آئندہ آنے والے اہلِ ایمان بھی اس سعادت کے امیدوار ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ہمیں دعائے عہد پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے، جس میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اگر امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور سے پہلے ہماری وفات ہو جائے تو خدا ہمیں دوبارہ زندہ کرے تاکہ ہم امامؑ کی نصرت میں حاضر ہو سکیں۔

«اللَّهُمَّ إِنْ حَالَ بَینِی وَ بَینَهُ الْمَوْتُ الَّذِی جَعَلْتَهُ عَلَی عِبَادِک حَتْما مَقْضِیا، فَأَخْرِجْنِی مِنْ قَبْرِی مُؤْتَزِرا کفَنِی شَاهِرا سَیفِی مُجَرِّدا قَنَاتِی مُلَبِّیا دَعْوَةَ الدَّاعِی فِی الْحَاضِرِ وَ الْبَادِی.»

حقیقت یہ ہے کہ رجعت اور امامِ زمانہ علیہ السلام کی نصرت کا شرف اُن لوگوں کو ملے گا جو ایمان، معرفت، اخلاص اور استقامت جیسی صفات اپنے اندر پیدا کریں گے۔ اس میدان میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں، بلکہ کامیابی کا معیار صرف تقویٰ اور وفاداری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha